نئی دہلی، امور داخلہ کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج نئی دہلی میں پولس یادگاری دن کے موقع پر منعقدہ تقریب کی صدارت کی اور نئی دہلی میں واقع پولس کے قومی میموریل میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہوئے پولس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
پولس کے یادگاری دن کی ابتداءسی آر پی ایف اہلکاروں کی قابل تعریف شجاعت اور بے مثال لگن کی یاد سے ہوتی ہے۔1959ء میں آج ہی کے دن لداخ میں ہاٹ اسپرنگس کے برف سے ڈھکے ہوئے، ناقابل تسخیر اور دشوار گزار پہاڑیوں میں سی آر پی ایف نے بے مثال بہادری، شجاعت اور قربانی کی ایک مثال پیش کی تھی۔سی آر پی ایف اور انٹلی جنس بیورو کے 20 اہلکاروں پر مشتمل ایک گشتی دستہ گمشدہ جاسوسی نفری کی تلاش میں نکلا تھا، تبھی ان کامحاصرہ پی ایل اے (چینی فوج)کے ذریعے اچانک کرلیا گیا۔اس اچانک حملےاوربہتر پوزیشن میں نہ رہتے ہوئے بھی سی آر پی ایف کے جوانوں نے چینی فوج کے اہلکاروں کے خلاف نہایت دلیری اور جواں مردی کے ساتھ مقابلہ کیا، جبکہ چینی فوج کے اہلکاربڑی تعداد میں اور ہتھیاروں سے پوری طرح لیس تھے۔اس لڑائی میں سی آر پی ایف کے دس اہلکاروں نے ملک کی دفاع میں جام شہادت نوش کیا۔ تب ہی سے 21اکتوبر کو ہر سال ملک کے تئیں پولس اہلکاروں کی ایک بے مثال وفاداری اور عظیم قربانی کو یادکرنے کے لئے پولس یادگاری دن منایاجاتا ہے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے ہاٹ اسپرنگس کی لڑائی کو یاد کیا اور اس لڑائی میں شہید ہوئے سی آر پی ایف کے جوانوں کی دلیری اور شجاعت کو یاد کیا۔انہوں نے تمام پولس اہلکاروں کی خدمات کا اعتراف کیا اور کہا کہ پولس فورسیز کی تاریخ فخر، دلیری اور شجاعت سے عبارت ہے۔
جناب شاہ نے ملک کے تمام پولس اہلکاروں کی تعریف کی اور انہیں ملک کے خاموش محافظ کی حیثیت سے تعبیر کیا۔انہوں نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت سے لے کر ٹریفک کے بندوبست تک اور غیر قانونی منشیات کی لعنت سے لے کر دہشت گردی کے خلاف لڑائی تک پولس اہلکاروں نے ملک کی ترقی میں خاموشی کے ساتھ ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے ثمرات ملک کے آخری فرد تک صرف اسی صورت میں پہنچ سکتے ہیں، جب امن و قانون کے حلات مستحکم رہیں گےاور ملک میں امن کا بول بالا رہے گا۔پولس کو سلامتی کےان حالات کو یقینی بنانے کے لئے نہایت اہم رول ادا کرنا ہوگا۔
شہیدوں کو یاد کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے کہا کہ اب تک فرائض کی انجام دہی کے دوران کل34844پولس اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 292شہیدوں کو اس فہرست میں آج جوڑ اجارہا ہے۔ پولس اہلکار نہایت مشکل اور ناسازگار حالات میں کام کرتے ہیں۔ اس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئےجناب شاہ نے کہا کہ ہندوستان کے اندر پولس افواج میں افرادی قوت کی سخت قلت ہے۔ فی الوقت ملک میں ایک لاکھ کی آبادی پرصرف144 پولس اہلکارہیں، جبکہ پولس اہلکاروں کی منظور شدہ یہ تعداد 222ہے۔جناب شاہ نے کہا کہ افرادی قوت کی اس قلت کے سبب زیادہ تر پولس اہلکاروں کو طویل اوقات تک کام کرنا پڑتا ہے اور انہیں ہفتہ واری چھٹی بھی نہیں مل پاتی ہے۔پولس کے کام کرنے کے مشکل ترین حالات کااعتراف کرتے ہوئےجناب شاہ نے کہا کہ مودی حکومت پولس اہلکاروں کی مجموعی فلاح و بہبود کے تئیں پوری طرح عہد بستہ ہے۔ مودی حکومت ان کی رہائش سے لے کر کام کے ماحول ، صحت اور تعلیم سبھی چیزوں کے لئے فکر مند ہے۔
اپنا خطاب ختم کرتے ہوئے جناب شاہ نے تمام پولس اہلکاروں کی اچھی صحت اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔