سب سے پہلے تو میں صدر رامافوس کو برکس میں آؤٹ ریچ پروسیس (عمل) کومضبوط بنانے کے لئے مبارکباد دیتاہوں۔برکس اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان یہ بات چیت اور ترقی کے اہم موضوعات پر خیالات کا تبادلہ کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔بڑی تعداد میں افریقی ممالک کی موجودگی کا اندازہ تو یقینی ہی ہے اور خوشی کا موضوع بھی۔افریقہ کے ساتھ ہندوستان کے تاریخی رشتے بہت گہرے ہیں۔ افریقہ کی آزادی ، ترقی اور امن کے لئے ہندوستان کی تاریخی کوششوں کی تفصیلات کو میری حکومت نے سب سے زیادہ ترجیح دی ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں ہیڈز آف اسٹیٹ اینڈ گورنمنٹ سطح کے 100 سے بھی زیادہ باہمی دوروں اور ملاقاتوں کے ذریعے ہمارے اقتصادی رشتے اور ترقی میں تعاون نئی اونچائیوں پر پہنچے ہیں۔ آج 40 سے زیادہ افریقی ممالک میں 11بلین ڈالر سے زیادہ کی 180 لائنز آف کریڈٹ جاری ہیں۔ ہر سال 8ہزار افریقی طالب علموں کو ہندوستان میں اسکالرشپ ، 48افریقی ممالک میں ٹیلی میڈیسن کے لئے ای- نیٹ ورک اور نجی شعبے کے ذریعے 54بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے، افریقہ میں افریقہ کی ضروریات کی بنیاد پر ہنر کوفروغ دیا جارہا ہے۔پرسوں یوگانڈاکی پارلیمنٹ کو خطاب کرتے ہوئے میں نے ہندوستان اور افریقہ کی ساجھیداری کے دس اصولوں کو تفصیلی طورپر بیان کیا ہے۔یہ دس اصول افریقہ کی ضروریات کے مطابق، ترقی کے لئے تعاون ، امن اور تحفظ کے لئےمدد اور ہمارے لوگوں کے درمیان سینکڑوں سال پرانے رشتوں کو اور مضبوط کرنے کے لئے رہنما خطوط ہے۔ افریکن کانٹی نینٹل فری ٹریڈ ایریا کی اہم پہل کے لئے میں سبھی افریقی ممالک کو دلی مبارکباد دیتا ہوں۔افریقہ میں علاقائی معاشی رابطوں کے لئے ہورہی مختلف کوششوں کا بھی میں خیر مقدم کرتاہوں۔
فری ٹریڈ اینڈ کامرس میں گزشتہ تین دہائیوں میں سینکڑوں ملین لوگوں کو غریبی سے باہر نکالا ہے۔ عالمگیریت اور ترقی کے فوائد کو لوگوں تک پہنچانا اس عمل کا خاص حصہ تھا اور عالمی جنوب اس کوشش میں برابر کا حصہ دار تھا۔2008ء کے معاشی بحران کے دوران عالمگیریت کے اس بنیادی پہلو پر تحفظ پسندی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔اس رجحان کا اور ترقی کی شرح میں سست روی کا سب سے گہرا اثر ہم جیسے ان ممالک پر پڑا ہے، جو برطانوی دور میں صنعتی ترقی کے مواقع کا فائدہ نہیں اٹھا پائے۔آج ہم ایک بار پھر تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں۔ ڈیجیٹل انقلاب کے سبب ہمارے لئے نئے امکانات پیدا ہورہے ہیں اور اس لئے ، یہ ضروری ہے کہ ہم آٹومیشن، آرٹیفیشل انٹلی جینس اور بڑے اعدادو شمار کے تجزیے کے سبب ہونے والی تبدیلیوں کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ اس کے لئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ہنرمند عملے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی اور ساتھ ہی انکلوسیو گلوبل ویلیو چین، ورکرز موبیلٹی ، پورٹیبل سوشل سیکوریٹی فریم ورک اور ایفیشیینٹ ریمیٹنس کوریڈورز بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔
اپنے شراکت دار ملکوں کے ساتھ ان کی ترقی کے لئے ہندوستان پورا تعاون دیتا رہا ہے۔ ساؤتھ-ساؤتھ کوآپریشن کے تحت اپنے ترقیاتی تجربات کو مشترک کرکے ہم دیگر پذیر ممالک میں تکنیکی تعاون، تربیت اور ہنر کے فروغ کے ذریعے ہر ممکن تعاون ہمارے ملک کی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ساتھی ہی، شراکت دار ملکوں کی ضرورتوں اور ترجیحات کے مطابق بنیادی ڈھانچے، توانائی، زراعت، تعلیم، صحت، اطلاعاتی ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں از خود ایک ترقی پذیر ملک ہوتے ہوئے بھی ہندوستان ہر ممکن معاشی تعاون بھی دیتا رہا ہے۔ ہندوستان کے اپنے فروغ کے سفر میں ساؤتھ –ساؤتھ کوآپریشن ایک خاص بنیادرہا ہے۔ اپنی ترقی کے تجربات کو ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مشترک کرنا ہندوستان کی ہمیشہ سے ہی ترجیح رہی ہے اور مستقبل میں بھی رہے گی۔