نئی دہلی، نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور اطلاعات و نشریات کے وزیر مملکت کرنل راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے کہا ہے کہ ا ب ایشیا کے لئے وہ وقت آگیا ہے کہ وہ تمام برائیوں کے خلاف انسانی جدوجہد کی اپنی کہانیوں کو ا یک خاص شکل دے اور اپنے مستقبل کور وشن کرے ۔ انہوں نے یہ بات آج یہاں 15ویں ایشیا میڈیا چوٹی کانفرنس کے اختتامی اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا سماجی اور اقتصادی اعتبار سے مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ بہتر ہے کہ میڈیا عوام کو ان کی ترقی کے لئے درکار معلومات کی فراہمی میں مدد کرے اور خاص طور پر سماجی میڈیا کے اس دور میں۔ انہوں نے کہا کہ اس دو روزہ چوٹی کانفرنس کا سب سے اہم تعاون ہوگا۔
کرنل راٹھور نے چوٹی کانفرنس کے دوران اس طر ح کے اہم مباحث کے انعقاد کے لئے 41 ملکوں سے آئے ہوئے 395 مندوبین اور کانفرنس کا انعقاد کرنے والے منتظمین کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں غیر ترقی یافتہ ایشیائی افراد تک پہنچنے کے لئے تاکہ وہ معلومات کو اپنی ترقی کے لئے بہترین طریقہ پر استعمال کرسکیں۔ یہ ایک بہترعلاقائی تعاون ہوگا۔
اختتامی تقریب کے دوران وزیر موصوف نے دو زمروں کے لئے 2018 کے عالمی ٹیلی ویژن ایوارڈزدیئے۔ یہ دو زمرے ہیں مائیگریشن یا امیگریشن پرانسان دوست زمرے کے تحت بہترین ٹی پر ڈاکیومنٹری اور ‘کلین واٹرفار لائف’ کے لئے سائنس /ماحولیاتی زمرے کا بہترین ٹی وی پروگرام۔
انسان دوست زمرے کے تحت مائیگریشن یا امیگریشن پر ہینگ سیوئک کی ہدایت کاری میں تیار کردہ جرنی آن فٹ (ہوم ورڈ) کو بہترین ٹی وی ڈاکیومنٹری کا ایوارڈ ملا ہے۔ یہ ڈاکیومنٹری کوریا کے کے بی ایس آئی نے نشر کی تھی۔
سائنس /ماحولیاتی زمرے کے تحت زندگی کے لئے صاف پانی کے موضوع پر ماک ینگ وانی کے تیار کردہ لی فار سروائیول: این ای واٹر کو بہترین ٹی وی پروگرام سے نوازا گیا،۔ اس پروگرام کو سنگا پور کے نیوز ایشا چینل نےنشر کیا تھا۔
انے اختتامی کلمے میں ایشیا پیسفک انسٹی ٹیوٹ آف براڈ کاسٹنگ ڈیولپمنٹ (اے آئی بی ڈی) کے ڈائریکٹر جناب چانگ نے چوٹی کانفرنس کے ایجنڈے کا خلاصہ پیش کیا اور کانفرنس سے جو کچھ حاصل ہوا ہے اس کی تفصیل بتائی ہے۔