نئی دہلی: ۔سینٹرل بورڈ آف ڈائرکٹ ٹیکسیز (سی بی ڈی ٹی ) نے فروری 2018 میں سات مزید ایڈوانس پرائسنگ ایگریمنٹس(اے پی اے) پر دستخط کئے ہیں ۔ ان یک طرفہ اے پی اے پردستخط کے بعد سی بی ڈی ٹی نے 200 اے پی اے پر دستخط کا اہم سنگ میل سر کرلیا ہے ۔
اب تک سی بی ڈی ٹی ایسے 203 معاہدوں پر دستخط کرچکا ہے ، جن میں 185 یکطرفہ اے پی اے اور 18 دوفریقی اے پی اے شامل ہیں۔ جاری مالی سال کے دوران سی بی ڈی ٹی اب تک 51 اے پی اے معاہدے کرچکا ہے ، جن میں 44 یکطرفہ اور سات دو فریقی اے پی اے شامل ہیں۔
فروری میں جن سات اے پی اے پر دستخط کئے گئے ہیں ، وہ ہماری معیشت کے فارماسیوٹیکل ،آٹوموبائل ، مالیات اور غذا اور مشروبات کے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان معاہدوں میں جن مصنوعات کے بین الاقوامی سودے ہوئے ہیں ، ان میں مینوفیکچرنگ ، سافٹ وئیر ڈیولپمنٹ سروس کی فراہمی ، آئی ٹی کی سہولیات سے لیس خدمات ، رائلٹی کی ادائیگی ، کانٹریکٹ آر اینڈ ڈی سروسز کی خدمات کی فراہمی ، مارکیٹنگ سپورٹ خدمات کی فراہمی ،تقسیم ، اے ایم پی اخراجات ، انجنئرنگ ڈیزائن سپورٹ سروسز کی فراہمی ،سورسنگ سپورٹ سروسز کی فراہمی اور انٹریسٹ یعنی سود کی ادائیگی سے متعلق امور شامل ہیں ۔
واضح ہوکہ اے پی اے 2012 میں انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کے تحت دستیاب کرائے گئے تھے اور دفعات کی واپسی 2014 میں شروع کی گئی تھی ۔ دراصل اے پی اے اسکیم کی کوشش ہے کہ پرائسنگ کے طریقوں کی تشخیص وتعین اور بین الاقوامی سودوں کی قیمتوں کا پیشگی تعین کے ذریعہ ٹیکس دہندگان کو پرائسنگ کی منتقلی کی سہولیات فراہم کرائی جائے ۔
اے پی اےاسکیم کی پیش رفت سے سرکار کے واپس نہ لئے جانے والے ٹیکس نظام کو استحکام حاصل ہوگا ۔ ہندوستانی اے پی اے پروگرام کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر خاصی ستائش کی جاچکی ہے ۔