Online Latest News Hindi News , Bollywood News

کسی بھی مریض کو محض نادار یا معاشرے کے نچلے طبقے سے ہونے کی پاداش میں معالجے کی سہولت سے محروم نہیں رہنا چاہئے: جے پی نڈا

Urdu News

نئیدہلی: معزز نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیانائیڈو نے کل ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال میں پی جی آئی ایم ای آر کے آٹھویں جلسہ تقسیم اسناد کی تقریب کی صحت وکنبہ بہبود کے وزیر جناب جے پی نڈا، صحت وکنبہ بہبود کے وزرائے مملکت  جناب اشونی کمار چوبے اور محترمہ انوپریہ پٹیل کی موجودگی میں صدارت کی۔

مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ آر ایم ایل ملک کے بہترین طبی اداروں میں سے ایک ادارہ ہے جو گزشتہ 75 برسوں سے عوامی خدمت میں مصروف ہے۔ نائب صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ تعلیم اور صحت ،ملک کے دو ستون ہیں اور سوستھ بھارت ہی سمردھ بھارت ہے یعنی صحت مند ہندوستان ہی خوشحال ہندوستان کہا جاسکتا ہے۔ جناب نائیڈو نے زور دیکر کہا کہ آیوشمان بھارت قومی صحت تحفظ مشن کی اہمیت ہے اور اس کے توسط سے تقریباً 50 کروڑ لوگوں (10 کروڑ کنبوں کے) کو کثیر لاگت والے حفظان صحت اخراجات سے تحفظ حاصل ہوگا۔ انہوں نے وزارت صحت کے واجبی لاگت والی ادویہ اور بھروسے مندر ذریعہ علاج (اے ایم آر ا ٓئی ٹی) اقدامات کی ستائش کی اور کہا کہ اس کی مدد سے عام مریضوں کو کینسر اور امراض قلب جیسی بیماریوں کی شکل میں آنے والے صرفے میں کافی راحت حاصل ہوئی ہے۔

اپنی تقریر میں نائب صدر جمہوریہ ہند نے مزید کہا کہ حکومت نے سبھی کو آفاقی حفظان صحت  فراہم کرنے کا عہد کررکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حفظان صحت خدمات کا نظام متوازن نہیں ہے۔ انہوں نے تمام شراکت داروں مثلاً نجی اداروں ، این جی او اور مہذب معاشرے کے اداروں سے گزارش کی کہ وہ حکومت کی کوششوں میں اپنا تعاون دیں۔ جناب وینکیانائیڈو نے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ دیہی علاقوں میں اپنی خدمات فراہم کریں۔

طلباء کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے صحت وکنبہ بہبود کے وزیر جناب  جے پی نڈا نے کہا کہ آج آپ جب اکیسویں صدی کی نئی دنیا میں داخل ہورہے ہیں اور آپ کے سامنے طبی سائنس کا جدید ترین علوم پر مبنی شعبہ وا ہوا ہے ، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ آپ یہ نہ بھول جائیں کہ آپ کا پہلا کام غریب آدمی کی صحت کو بہتر بنانے کے مقصد کا حامل ہونا چاہئے۔ آپ کو ضرورتمندوں اور نادار طبقات کا خیال رکھنا چاہئے۔ وزیر صحت نے کہا کہ کسی بھی مریض کو معالجے کی سہولت سے محض اس بنیاد پر  محروم نہیں ہونا چاہئے کہ اس کا تعلق نادار طبقے سے ہے یا وہ سماج کے نچلے طبقے سے متعلق ہے۔

جناب نڈا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حفظان صحت کے شعبے میں ہر سطح پر ہنرمند انسانی وسائل کا زبردست بحران ہے۔  ہم نے اب یہ منصوبہ بنایا ہے کہ ملک میں طبی تعلیم کو تیزی سے توسیع دی جائے۔ ادویہ کی پریکٹس کے لئے ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ معالج کے پاس وافر علم ہو۔ تجزیاتی صلاحیت بھی ہو اور متعلقہ شعبے میں مخصوص ہنرمندی بھی ہو۔ ہر سطح پر اعلیٰ کوالٹی کے حامل خدمات فراہم کرنے والے ہیلتھ کیئر کارکنان کی فراہمی ایک بڑی چنوتی ہے۔ ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے پاس اچھے اساتذہ اور ماہرین تعلیم ہوں جو صحت کے شعبے میں ایسے انسانی وسائل کی تخلیق کرسکیں۔ اس سلسلے میں  ملک نے آپ سے بہت ساری امیدیں وابستہ کررکھیں۔

وزارت کی جانب سے شروع کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ حکومت نے ڈاکٹروں کی سبکدوشی کی عمر بڑھا کر 65 برس کردی ہے اور مزید طبی اور نرسنگ اسکول کھولے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کثیر ہنرمندی والے ڈاکٹروں کی فراہمی کے لئے بھی کوشاں ہے تاکہ ماہرین کی قلت کو دور کیا جاسکے۔ جناب نڈا نے کہا کہ قومی استحقاق اور داخلہ امتحان (این ای ای پی) سے طلباء کی برادری کو ملک بھر میں فائدہ حاصل ہوگا کیوں کہ انہیں متعدد سطحوں پر منعقد ہونے والے امتحانوں میں شریک ہونے کی ضرورت باقی نہ رہے گی اور اس طرح کے امتحان سے زیادہ شفافیت کا راستہ ہموار ہوگا ۔ مستقبل کے طلباء کا وزن کم ہوگا ، مختلف عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی تعداد میں کمی آئے گی جو امتحانات کے عمل سے متعلق ہوتے ہیں اور اس ٹیسٹ کے ذریعے طبی تعلیم کے معیارات بھی بہتر ہوں گے۔

جناب نڈا نے کہا کہ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن قواعد اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن قواعد میں معقول ترامیم کی گئی ہیں تاکہ میڈیکل کالجوں میں کونسلنگ کو ایڈمیشن کے وقت لازمی بنایا جاسکے۔ موجودہ میڈیکل کالجوں کو سُپر اسپیشلٹی  بلاکوں کے قیام کے لئے اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔ ملک میں 70 میڈیکل کالجوں میں ایسا کیا جارہا ہے۔

اس موقع پر 116 طلباء کو ڈگریاں ایوارڈ کی گئیں ان میں سے 91 ایم ڈی / ایم ایس طلباء 25 ڈی ایم / ایم سی ایچ سپر اسپیشلٹی طلباء تھے۔ 9 طلائی تمغات امراض قلب کے شعبے میں، یورولوجی، برن اینڈ پلاسٹک سرجری، جنرل سرجری، پیڈیارٹرک، جنرل میڈیسن ، انیستھیسیالوجی،  سُپراسپیشلٹی ، گولڈ مڈل پوسٹ ڈاکٹریٹ  اور ماہرین امراض نسواں کو دیے گئے۔

ڈی جی ایچ ایس ڈاکٹر پروملا گپتا، پی جی آئی ایم ای آر کے ڈائرکٹر ڈاکٹر وی کے تیواری ، ڈاکٹر آر ایم ایل اسپتال دیگر سینئر افسروں کے ساتھ موجود تھے۔ اس موقع پر ادارےکے  سینئر افسران اور اساتذہ بھی موجود تھے۔

Related posts

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More