نئی دہلی۔ بڑی تعداد میں ایسی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن کے ذریعہ سپلائی کے ماڈل ‘‘ بل ٹو شپ ٹو’’ ای ۔ وے بل کی ضرورت کے تعلق سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔‘‘ بل ٹو شپ ٹو’’ سپلائی کے اس انفرادی نوعیت کے ماڈل کے تحت لین دین میں تین افراد شامل ہوتے ہیں جو درج ذیل ہیں:۔
- ‘اے’ وہ شخص ہے جس نے ‘ بی’ کو آرڈر دیا ہے کہ وہ ‘ سی’ کو براہ راست سامان بھیجے۔
- ‘ بی’ وہ شخص ہے جو ‘اے’ کی طرف سے‘ سی’ کو براہ راست سامان بھیج رہا ہے۔
- ‘ سی’ سامان کو وصول کرنےوالا شخص ہے۔
اس مکمل صورتحال میں دو سپلائی شامل ہیں اور اس کے مطابق دو ٹیکس انوائس جاری کرنے کی ضرورت ہے:۔
- انوائس۔1 جو کہ ‘ بی ’ کے ذریعہ‘ سی’ کو جاری کیا جائے گا۔
- انوائس۔2 جو کہ ‘اے’کے ذریعہ ‘ سی’ کے لئے جاری کیا جائے گا۔
یہ بھی سوالات اکثر پوچھے گئے ہیں کہ ان اشیاء اور سامانوں کے نقل وحمل کے لئے ای۔ وے بل کون جاری کرے گا جو کہ‘ بی’ سے ‘ سی’ کو‘ اے’ کی جانب سے منتقل کئےجارہے ہیں۔یہاں یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ سی جی ایس ٹی ضوابط 2017 کے تحت یا تو‘اے’ یا ‘ بی’ ای ۔وے بل بنا سکتا ہے۔لیکن یہاں یہ بات نوٹ رہے کہ درج ذیل طریقوں کے تحت صرف ایک ہی ای۔ وے بل تیار کرنے کی ضرورت ہوگی۔
کیس۔1:جب ای۔ وے بل‘ بی’ کے ذریعہ بنایا جائے گا توجی ایس ٹی فارم ای ڈبلیو بی۔01 کے حصہ ‘ اے’ میں درج ذیل خانوں کو پر ُ کیا جائے گا۔
.1 |
بل فروم |
اس خانے میں ‘بی’ کی تفصیلات پر کی جائیں گی۔
|
2. |
ڈسپیج فروم |
یہ وہ جگہ ہے جہاں سے سامان کو بھیجا جارہا ہے یہ ‘بی’ کا بنیادی یا اضافی مقام ہوسکتا ہے۔ |
3. |
بل ٹو |
اس خانے میں‘اے’ کی تفصیلات بھری جائیں گی۔ |
4. |
شپ ٹو |
اس خانے میں‘ سی’ کی تفصیلات بھری جائیں گی۔ |
5. |
انوائس کی تفصیلات |
انوائس۔1 کی تفصیلات بھری جائیں گی۔ |
کیس۔ 2: جب ای۔ وے ب
ل ‘ اے’ کے ذریعہ تیار کیا جائے گا تو جی ایس ٹی فارم ای۔ڈبلیو بی۔01 کے حصہ‘ اے’ میں درج ذیل خانوں کو پر کیا جائے گا۔
1. |
بل فروم |
اس خانے میں ‘اے ’ کی تفصیلات پر کی جائیں گی۔ |
2. |
ڈسپیج فروم |
یہ وہ جگہ ہے جہاں سے سامان کو بھیجا جارہا ہے یہ ‘بی’ کا بنیادی یا اضافی مقام ہوسکتا ہے۔ |
3. |
بل ٹو |
اس خانے میں‘سی’ کی تفصیلات بھری جائیں گی۔ |
4. |
شپ ٹو |
اس خانے میں‘ سی’ کی تفصیلات بھری جائیں گی۔ |
5. |
انوائس کی تفصیلات |
انوائس۔2 کی تفصیلات بھری جائیں گی۔ |