نئی دہلی، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر رادھا موہن سنگھ نے آج نئی دلی کے کِرشی بھون میں جمہوریہ مالدووا کے امور خارجہ اور یوروپی اتحاد کے وزیر جناب تودوریولیانووسچی سے ملاقات کی اور زراعت کے سیکٹر میں قریبی تعاؤن کو فروغ دے کر دونوں ملکوں کے درمیان روایتی تعلقات کو مستحکم کرنے پر زور دیا۔
جناب سنگھ نے زراعت کے سیکٹر میں شاندار ترقی اور سوائل ہیلتھ کارڈ ، آرگینک فارمنگ، فصلوں کا بیمہ، آبپاشی، ای-نیم وغیرہ جیسی اصلاحات کے ذریعے 2022 تک کسانوں کی آمدنی دو گنا کرنے کے تئیں بھارت کے عہد کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے خوراک کی کفالت کا ہدف حاصل کر لیا ہے اور زرعی اشیاء میں کو برآمد کرنے والے بن گئے ہیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ زراعت کے سیکٹر میں دونوں ملکوں کے لئے وسیع امکانات ہیں اور سرکاری زرعی اداروں ، ماہرین، سائنسدانوں اور زرعی تاجروں کے درمیان بات چیت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
جناب سنگھ نے دونوں ملکوں کے تاجروں پر زور دیا کہ وہ زرعی تجارت میں اضافے کیلئے امکانات تلاش کریں اور مالدووا کی کمپنیوں کا بھارت کے ورلڈ فوڈ فیسٹیول میں شرکت کے لئے خیر مقدم کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان زرعی تجارت میں اضافہ نا گزیر ہے اور مالدووا کو یقین دلایا کہ بھارت مالدووا سے سیبوں کی برآمد کے لئے سرگرمیوں کا پہلے ہی آغاز کر چکا ہے اور ان پر زور دیا کہ وہ بھارت سے پھلوں اور سبزیوں سمیت زرعی اشیاء درآمد کرنے پر غور کریں۔