Online Latest News Hindi News , Bollywood News

‘‘معذور نوجوانوں کے لیے عالمی آئی ٹی چیلنج 2018 ’’ میں 18 ممالک کے 100 معذور نوجوانوں کی شرکت

Urdu News

نئی دہلی۔ آج یہاں ‘‘معذور نوجوانوں کے لیے عالمی آئی ٹی  چیلنج 2018 ’’ میں 18 ممالک  جیسے  ہندوستان، انڈونیشیا، چین ، ویتنام، ملیشیا، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، منگولیا، کمبوڈیا، لاؤس، فلپائن، کوریا، قزاقستان، برطانیہ  اور متحدہ عرب امارات کے 100 نوجوان معذورافراد (بینائی سے محرومی ،  سماعت سے محرومی، لوکوموٹر معذوری،  دانشورانہ معذوری/ترقیاتی خرابی) نوجوان شرکت کر رہے ہیں۔ اس سہ روزہ تقریب کا افتتاح گذشتہ روز سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے وزیر مملکت جناب کرشن پال گرجرنے کیا ۔ اس تقریب کا انعقاد 9  تا 11 اکتوبر 2018 ری ہیبلی ٹیشن انٹرنیشنل کوریا اور اس سے وابستہ پارٹنر ایل جی الیکٹرونکس کے تعاون سے سماجی انصاف و تفویض اختیارات کی وزارت کے معذور افراد کے تفویض اختیارات کے محکمہ (ڈی ای پی ای ڈی) کے زیر اہتمام کیا جا رہا ہے ۔  ایوارڈ دینے کی تقریب کا انعقاد کل 11 نومبر 2018 کو کیا جائے گا ۔

معذور نوجوانوں کے لیے عالمی آئی ٹی چیلنج کا مقصد معذور نوجوانوں میں آئی سی ٹی سے متعلق ہنر مندی کو فروغ دینا نیز خاص طور پر ایشیا بحر الکاہل کے خطے میں معذور افراد کی معیار زندگی کو بہتر بنانے میں اطلاعاتی اور کمپیوٹر ٹکنالوجی (آئی سی ٹی) کے استعمال کے بارے میں بیداری لانا ہے ۔ یہ ایک صلاحیت سازی کا منصوبہ جو معذور افراد کو  آئی سی ٹی تک رسائی اور اس سے متعلق تجربات ، اطلاعات سے مستفید ہونے کی لیاقت میں بہتری لاکر  انہیں اپنی حدود سے باہر آنے اور اور بہتر مستقبل  کے  لیے اپنی آپ کو چیلنج کرنے مدد کرتا ہے۔ ساتھ ہی معذوری سے متعلق شرکت کرنے والے ممالک کے ایجنڈا طے کرنا اور بین الاقوامی تعاون اور تبادلے کو فروغ دینا ہے ۔

ہندوستان نے اس تقریب میں شرکت کرنے کے لیے 12 معذور نوجوانوں کو نامزد کیا ہے ۔ ان معذور نوجوانوں کا انتخاب قومی آئی ٹی چیلنج کی بنیاد پر کیا گیا ہے جس کا اہتمام جون 2018 میں این آئی ٹی کروشیتر کے ذریعہ سماجی انصاف و تفویض اختیارات کی وزارت نے کیا تھا۔ ہندوستان اس ایونٹ میں 2013 سے شرکت کر رہا ہےاور تبھی سے ایوارڈ بھی حاصل کر رہا ہے۔ گذشتہ سال اس ایونٹ کا انعقاد ویتنام میں ہوا تھا۔

Related posts

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More