نئی دہلی،۔ جون ۔ عورتوں اور بچوں کی ترقی کی وزارت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ ناجائز مقامات ؍ ادارے ؍این جی اوز ؍ افراد بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ اسکیم کے تحت نقد ترغیب کے نام پر غیر قانونی فارم تقسیم کر رہے ہیں ۔ حکومت ہند نے اس اسکیم میں نقد انفراد ی منتقلی کی کوئی گنجائش یا تجویز نہیں رکھی ہے۔ بیٹی بچاؤ اسکیم سماجی نظام میں چیلنج سے بھرے نظریات اور پدرانہ نظام کی گری جڑوں پر اور بچیوں کی تعلیم کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور زندگی کے تسلسل میں عورتوں کو با اختیار بنانے کے معاملے پر بھی دھیان دیا گیا ہے۔ یہ راست فائدے کی متقلی کی اسکیم نہیں ہے۔
عورتوں اور بچوں کی ترقی کی وزارت نے اس معاملے کو ریاستی سرکاروں کے حکام کے ساتھ اٹھایا ہے جہاں یہ غیر قانونی سرگرمی خاص طور پر
اتر پردیش ، ہریانہ ، اتراکھنڈ ، پنجاب ، بہار ، مدھیہ پردیش اور مغربی بنگال میں پیش آئی ہے۔ اس سلسلے میں اس وزارت کی طرف سے پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا پر کئی با رتنبیہ جاری کی گئی ہے ۔ وزارت نے مشورہ دیا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی ذاتی تفصیلات نہ شییئر کی جائیں اور کسی کو بھی اس طرح کی دھوکہ دہی کی اسکیم سبسکرائب نہ کی جائیں البتہ کچھ لوگ اب بھی اس طرح کی دھوکہ دھڑی کے جال میں پھنس رہے ہیں اور اس طرح کے غیر وجود والے فائدے کے نام پر رقم ادا کر رہے ہیں یا ذاتی تفصیلات کا انکشاف کر رہے ہیں جو بی بی بی پی اسکیم کے نام پر جھوٹے طریقے سے پیش کی گئی ہے۔ لہٰذا عام لوگوں کو پھر مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس طرح کی جھوٹی اور دھوکہ دہی پر مبنی معلومات کے جال میں نہ پھنسیں۔