نئی دہلی، ۔پٹرول ،ڈیزل ، اے ٹی ایف ،قدرتی گیس اور خا م تیل کو جی ایس ٹی میں شامل نہ کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انتشار کو کم کرنے اور ای اینڈ پی (ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن ) کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ذیلی شعبوں میں سرمایہ کاری کی غرض سے جی ایس ٹی کونسل نے 6 اکتوبر 2017 کو ہونے والے اپنے 22ویں اجلاس میں مخصوص سامان اور خدمات کے لئے جی ایس ٹی کی درج ذیل شرحوں کی سفارش کی ہے ۔
1۔ سمندر میں ساحل سے دور پانی میں کئے جانے والے کام کے ٹھیکوں اورتیل وگیس کی تلاش اور پیداوار کے شعبوں سے متعلق کاموں اور خدمات کے لئے جی ایس ٹی کی شرح 12 فیصد ہوگی۔ یہ شرح 12 بحری میلوں سے زائد کے فاصلے نافذالعمل ہوگی ۔
2۔ قدرتی گیس کی پائپ لائن کے ذریعہ ڈھلائی اور باربرداری پر 5 فیصد جی ایس ٹی کا نفاذ کیا جائے گا،جو 12فیصد کے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کے بغیر ہوگا۔
3۔ پٹے داری کے تحت درآمد کئے جانے والے رگز اوردیگر متعلقہ سامان کو آئی جی ایس ٹی سے مستثنی ٰ رکھا جائے گا ۔بشرطیکہ اس قسم کے فراہم /در آمد کئے جانے والے سامان پر آئی جی ایس ٹی کی ادائیگی دیگر مخصوص شرائط کی تکمیل کے ساتھ ہو۔
مزیر برآں بنکر کے ایندھن پر جی ایس ٹی کی شرح کم کرکے 5فیصد کی جارہی ہے۔ یہ شرح بیرون ملک جانے والے بحری جہازوںاورساحلی علاقوں کے بحر ی جہازوں پر نافذالعمل ہوگی ۔اس سلسلے میں ضروری متعلقہ اعلان جلد ہی جاری کیا جائے گا۔